مواد پر جائیں
مسجد اٹلس أطلس المساجد

تصویر: Felice Beato · Public domain · Wikimedia Commons ↗

تاریخی

زینت المساجد

دیگر نام: Zeenat-ul-Masajid

جامع في الهند

راستہ
🧭 اس مسجد میں کیا سہولتیں ہیں؟

اگر آپ گئے ہیں تو نشان لگائیں؛ تصدیق شدہ معلومات سب کو دکھائی جاتی ہیں اور فلٹر میں استعمال ہوتی ہیں۔

نشان لگانے کے لیے سائن ان کریں

جائزہ

یہ مواد ابھی آپ کی زبان میں دستیاب نہیں۔

یہ متن مستند معلومات سے مصنوعی ذہانت کی مدد سے مرتب کیا گیا ہے اور ابھی کسی مدیر نے اس کا جائزہ نہیں لیا۔ غلطی نظر آئے تو براہ کرم اطلاع دیں۔

مسجد زينة المساجد مسجد من العهد المغولي يقع في حي دريا غانج في دلهي القديمة، وسط المدينة. ويُكتب اسمه أيضاً «زينة المسجد»، ويُعرف بين الناس باسم «مسجد غاتا»، أي «مسجد السحاب». يرجع تاريخ المبنى إلى القرن الثامن عشر، وقد أمرت ببنائه زينة النساء، الابنة الثانية للإمبراطور المغولي أورنكزيب عالمكير. ويقع المسجد في شارع غاتا مسجد.

تاریخ

یہ مواد ابھی آپ کی زبان میں دستیاب نہیں۔

یہ متن مستند معلومات سے مصنوعی ذہانت کی مدد سے مرتب کیا گیا ہے اور ابھی کسی مدیر نے اس کا جائزہ نہیں لیا۔ غلطی نظر آئے تو براہ کرم اطلاع دیں۔

تولّت زينة النساء، الابنة الثانية للإمبراطور المغولي أورنكزيب عالمكير، تكليف بناء المسجد. وتحدد المصادر تاريخ إنشائه بالقرن الثامن عشر.

ویکیپیڈیا سے

زینت المساجد دہلی میں گھٹا مسجد روڈ پر واقع ہے، اس کو شاہ عالمگیر اورنگزیب کی چہیتی صاحبزادی زینت النساء بیگم نے 1710ء میں تعمیر کروایا تھا۔ مسجد کے شمالی حصے میں زینت النساء بیگم (متوفی 1712ء) کا مقبرہ بھی ہے۔انھوں نے تعمیر کے وقت مسجد سے متصل ایک محجر بنوا کر یہ وصیت کی تھی کہ انھیں اسی میں دفن کیا جائے۔ یہ شاندار مسجد سرخ پتھر کی بنی ہوئی ہے اور دہلی کی شاہجہانی جامع مسجد کے مشابہ ہے۔یہ مسجد زینت النساء کے ذاتی مال سے تعمیر کی گئی تھی۔

زینت النساء کی پیدائش اورنگ آباد میں 5 اکتوبر 1643 میں اورنگزیب عالم گیر کی پہلی بیوی دلراس بانو کے بطن سے ہوئی ۔

اس کے دادا پانچویں مغل بادشاہ شاہ جہاں تھے جن کی یاد گار تاج محل دہلی کی جامع مسجد ہے اور دیگر فن تعمیر کا شاہکار اور حیتا جاگتا نمونہ اب بھی ہندوستان کی عزت بڑھا رہا ہے اسی کے دور میں وہ پیدا ہوئی تھی.

زینت النساء کو اپنی بڑی بہن زینب النساء اور چھوٹی بہن زبدۃ النساء کی طرح اسلامی تعلیمات کی زبردست جانکاری تھی۔ ان کی تعلیم و تعلم کا انتظام گھر پر ایک ٹیوٹر کے ذریعہ کی گئی تھی ۔ کہا جاتا ہے کہ انھوں نے شادی نہیں کی تھی زہد اور کنوارے پن کی زندگی کو ترجیح دی تھی۔

آپ کی وفات اورنگزیب عالم گیر کی وفات کے بہت سالوں بعد 7 مئی 1721 میں ہوئی تھی۔

یہ مسجد زینت المساجد زینت النساء کی یاد گار ہے اور قدیم ترین مسجدوں میں سے ایک ہے۔ اس مسجد کی تعمیر میں شاہی خزانہ سے ایک آنہ تک نہیں لیا گیا تھا بلکہ یہ شہزادی کے ذاتی مال سے تعمیر کرائی گئی تھی۔

اس کی تعمیر میں ماہر فنکار اور انجینئر سے مدد لی گئی تھی ۔

مورے کلیکشن: دہلی ، کین پور ، الہ آباد اور بنارس میں دہلی میں زینت المسجد کی تصویر ، 1857 میں بغاوت کے بعد ڈاکٹر جان مورے نے 1858 میں لی تھی۔ زینت المسجد شمال مشرقی میں واقع ہے ,شاہ جہاں (1627-1658) نے اپنے نئے شہر شاہجہان آباد کے لیے تعمیر کردہ لال قلعے کے محل کی ایک طرف ہے۔ زینت مسجد مسجد مغل بادشاہ اورنگ زیب کی ایک بیٹی (1658-1707) نے 1707 میں بنائی تھی۔

ماخذ: ویکیپیڈیا، مضمون «زینت المساجد»؛ CC BY-SA 4.0 لائسنس کے تحت بغیر تبدیلی کے نقل کیا گیا۔ مزید ویکیپیڈیا پر پڑھیں ↗ · CC BY-SA 4.0

حوالہ جات
آخری تازہ کاری: 1 نومبر 2026 8 مشاہدات

فہرست میں شامل کریں

تصاویر شامل کریں

تصاویر مدیر کی منظوری کے بعد شامل ہوں گی۔

درستی تجویز کریں

زینت المساجد